حدیث نمبر: 19717
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ - زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ انْكِحْ أُخْتِي بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ لِي» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَيْمُ اللهِ لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي لَمَا حَلَّتْ لِي، لِأَنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي، وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»
ترجمہ

زینب بنت ابی سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم ﷺ کی زوجہ، نے انہیں بتایا کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ، میں تنہا آپ کی حقدار نہیں، اور مجھے سب سے زیادہ یہ پسند ہے کہ میری بہن میرے ساتھ اس بھلائی میں شریک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے لیے جائز نہیں ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم یہ بات کیا کرتے ہیں کہ آپ دُرہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اسے مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ اس لیے تم اپنی بیٹیاں یا بہنیں میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19717
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 223، حدیث 413