حدیث نمبر: 19716
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ لِأُخْتِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَبُّ مَنْ شَارَكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ» ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ تُحَدِّثَ أَنَّكَ نَاكِحٌ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟» ، قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ، لِأَنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي أَنَا وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُ»
ترجمہ

زینب بنت ابی سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی سے نکاح کر لیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں تنہا آپ کی حقدار نہیں ہوں، اور مجھے سب سے زیادہ یہ پسند ہے کہ میری بہن میرے ساتھ اس بھلائی میں شریک ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ جائز نہیں ہے۔“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بات مشہور ہے کہ آپ دُرہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنے والے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟“ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور ابوسلمہ دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ اس لیے تم اپنی بیٹیاں یا بہنیں میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19716
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 222، حدیث 412