المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله أولئك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو کہی جاتی ہیں، ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19563
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي قَوْلِهِ: {أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} «مَغْفِرَةٌ لِذُنُوبِهِمْ وَهِيَ الْجَنَّةُ»ترجمہ
قتادہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہی وہ لوگ ہیں جو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری ہیں، ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے“: ان کے گناہوں کی بخشش، اور وہ رزق جنت ہے۔