المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله أولئك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو کہی جاتی ہیں، ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19562
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فِي قَوْلِهِ: " {أُولَئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} ، قَالَ: هَهُنَا بَرِئَتْ عَائِشَةُ، {لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} [الأنفال: ٧٤] "ترجمہ
عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یہی وہ لوگ ہیں جو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری ہیں“: یہاں سیدہ عائشہ بری قرار پائیں۔ ”ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے۔“