المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله أولئك مبرءون مما يقولون لهم مغفرة ورزق كريم باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’یہ لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو کہی جاتی ہیں، ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19558
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: {أُولَئِكَ} [النور: ٢٦] ، يَعْنِي: «الطَّيِّبِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ» ، {مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ} يَعْنِي: " مِمَّا يَقُولُ هَؤُلَاءِ الْقَاذِفُونَ الَّذِينَ قَذَفُوا عَائِشَةَ هُمْ بَرَاءٌ مِنَ الْكَلَامِ السَّيِّءِ، ثُمَّ قَالَ: {لَهُمْ مَغْفِرَةٌ} [المائدة: ٩] ، يَعْنِي: «لِذُنُوبِهِمْ» ، {وَرِزْقٌ كَرِيمٌ} [النور: ٢٦] ، يَعْنِي: «حَسَنًا فِي الْجَنَّةِ، فَلَمَّا نَزَلَ عُذْرُ عَائِشَةَ ضَمَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَفْسِهِ وَهِيَ مِنْ أَزْوَاجِهِ فِي الْجَنَّةِ»ترجمہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”یہی وہ لوگ ہیں“ [سورۃ النور: 26]، یعنی پاکیزہ مرد اور عورتیں، ”ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری ہیں“، یعنی ان تہمت لگانے والوں کی کہی ہوئی باتوں سے، جنہوں نے سیدہ عائشہ پر تہمت لگائی، یہ لوگ بری بات سے پاک ہیں۔ پھر فرمایا: ”ان کے لیے بخشش ہے“ [سورۃ المائدہ: 9]، یعنی ان کے گناہوں کی، ”اور باعزت رزق ہے“ [سورۃ النور: 26]، یعنی جنت میں اچھا (رزق)۔ جب سیدہ عائشہ کا عذر نازل ہوا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے سے اور قریب کر لیا، اور وہ جنت میں بھی آپ ﷺ کی ازواج میں سے ہیں۔