❮
❯
حدیث نمبر: 19542
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " {الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ} [النور: ٢٦] «يُرِيدُ أَمْثَالَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ، وَمَنْ شَكَّ فِي اللهِ وَيَقْذِفُ مِثْلَ سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْمُسْلِمِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: {وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ} [النور: ٢٦] " يُرِيدُ الطَّيِّبَاتِ عَائِشَةَ طَيَّبَهَا اللهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَاهُ بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي سَرَقَةِ حَرِيرٍ قَبْلَ أَنْ يُصَوَّرَ فِي رَحِمِ أُمِّهَا، فَقَالَ لَهُ: هَذِهِ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَزَوْجَتُكَ فِي الْآخِرَةِ، عِوَضًا مِنْ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ، وَذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِ خَدِيجَةَ فَسُرَّ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ وَقَرَّ بِهَا عَيْنًا "، ثُمَّ قَالَ: {وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ} [النور: ٢٦] «يُرِيدُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَيَّبَهُ اللهُ لِنَفْسِهِ وَجَعَلَهُ سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ» ، {الطَّيِّبَاتُ} [النور: ٢٦] " يُرِيدُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے ہیں“ [سورۃ النور: 26]، اس سے مراد عبداللہ بن ابی بن سلول جیسے لوگ اور وہ جو اللہ کے بارے میں شک رکھتا ہو اور مسلمان عورتوں کی سردار جیسی ہستی پر تہمت لگائے۔ پھر فرمایا: ”اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں“ [سورۃ النور: 26]، اس سے مراد پاکیزہ سیدہ عائشہ ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے لیے پاکیزہ بنایا؛ جبریل علیہ السلام انہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں آپ ﷺ کے پاس لائے، اس سے پہلے کہ ان کی ماں کے رحم میں ان کی صورت بنائی جاتی، اور آپ ﷺ سے کہا: یہ ابوبکر کی بیٹی عائشہ ہیں، دنیا میں بھی آپ کی بیوی ہیں اور آخرت میں بھی آپ کی بیوی ہیں، خدیجہ بنت خویلد کے عوض۔ اور یہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت ہوا، تو رسول اللہ ﷺ ان سے دل سے خوش ہوئے اور آپ ﷺ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں۔ پھر فرمایا: ”اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں“ [سورۃ النور: 26]، اس سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں، جنہیں اللہ نے اپنے لیے پاکیزہ بنایا اور اولادِ آدم کا سردار بنایا۔ ”پاکیزہ عورتیں“ سے مراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19542
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 155، حدیث 238