حدیث نمبر: 19481
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يَقُولُ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقِيلَ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ: {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١١] ؟، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «أَوَ مَا تَرَاهُ فِي عَذَابٍ عَظِيمٍ؟ وَلَقَدْ كَانَ حَسَّانُ أُصِيبَ بَصَرُهُ»
ترجمہ

…”وہ پاکدامن اور سنجیدہ ہیں، کسی شک و شبہے کی تہمت ان پر نہیں لگتی، اور وہ غافل عورتوں کے گوشت سے بھوکی رہتی ہیں۔“ ان سے کہا گیا: اے ام المومنین! کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا: ”اور جس نے ان میں سب سے بڑا حصہ اٹھایا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے“ [سورۃ النور: 11]؟ سیدہ عائشہ نے فرمایا: کیا تمہیں نظر نہیں آتا کہ وہ بہت بڑے عذاب میں ہے؟ حسان کی بینائی جاتی رہی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19481
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 136، حدیث 177