حدیث نمبر: 19480
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى، يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ يُنْشِدُهَا شِعْرًا يُشَبِّبُ بِأَبْيَاتٍ لَهُ: حَصَانٌ رَزَانٌ مَا تُزَنُّ بِرِيبَةٍ وَتُصْبِحُ غَرْثَى مِنْ لُحُومِ الْغَوَافِلِ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: «لَسْتَ كَذَلِكَ» ، قَالَ مَسْرُوقٌ: فَقُلْتُ لَهَا: أَتَأْذَنِينَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْكِ وَقَدْ قَالَ اللهُ {وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ} [النور: ١١] ؟، فَقَالَتْ: «وَأَيُّ عَذَابٍ أَشَدُّ مِنَ الْعَمَى؟» ، فَقَالَتْ: «إِنَّهُ يُنَافِحُ - أَوْ يُهَاجِمُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

مسروق بیان کرتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے پاس حسان بن ثابت اپنے اشعار سنا رہے تھے، ان میں سے ایک شعر یہ تھا: ”وہ پاکدامن اور سنجیدہ ہیں، کسی شک و شبہے کی تہمت ان پر نہیں لگتی، اور وہ غافل عورتوں کے گوشت سے بھوکی رہتی ہیں۔“ سیدہ عائشہ نے ان سے فرمایا: تم ایسے نہیں ہو۔ مسروق کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہیں حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے: ”اور جس نے ان میں سب سے بڑا حصہ اٹھایا، اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے“ [سورۃ النور: 11]؟ انہوں نے فرمایا: اندھے پن سے بڑھ کر اور کون سا عذاب ہے؟ اور فرمایا: وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے دفاع کیا کرتا تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19480
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 135، حدیث 176