المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
قصة الإفك، وما أنزل الله من براءتها باب: واقعہ افک، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت میں جو نازل فرمایا
حدیث نمبر: 19460
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رُمِيتُ بِالَّذِيِ رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ، فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي جَالِسٌ ثُمَّ اسْتَوَى قَاعِدًا وَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَبْشِرِي» قُلْتُ: بِحَمْدِ اللهِ لَا بِحَمْدِكَ، ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَاتِ: {إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ} [النور: ٢٣] الْآيَاتِترجمہ
…سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: مجھ پر وہ تہمت لگائی گئی جو لگائی گئی جبکہ میں اس سے بےخبر تھی۔ اسی دوران نبی کریم ﷺ میرے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا، پھر فرمایا: ”اے عائشہ! خوشخبری ہو۔“ میں نے کہا: اللہ کی حمد کے ساتھ، آپ کی تعریف کے بغیر۔ پھر آپ ﷺ نے مجھے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: ”بےشک جو لوگ پاکدامن، بےخبر مومن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں…“ [سورۃ النور: 23] آخر تک۔