حدیث نمبر: 19457
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ يَا أُمَّتَاهُ أَلَا تُحَدِّثِينِي كَيْفَ كَانَ - يَعْنِي: أَمْرُ الْإِفْكِ؟ -، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَنَا أَخُوضُ الْمَطَرَ بِمَكَّةَ، وَمَا عِنْدِي مَا يَرْغَبُ فِيهِ الرِّجَالُ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ، فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَزَوَّجَنِي أَلْقَى الله عَلَيَّ الْحَيَاءَ، ثُمَّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ هَاجَرَ وَأَنَا مَعَهُ، فَاحْتُمِلْتُ إِلَيْهِ وَقَدْ جَاءَنِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهِ مَسِيرًا فَخَرَجَ بِي مَعَهُ، وَكُنْتُ خَفِيفَةً فِي حَدَجَةٍ لِي عَلَيْهَا سُتُورٌ، فَإِذَا ارْتَحَلُوا جَلَسْتُ عَلَيْهَا وَاحْتَمَلُوا وَأَنَا فِيهَا، فَشَدُّوهَا عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ فَنَزَلُوا مَنْزِلًا وَخَرَجْتُ لِحَاجَتِي، فَرَجَعْتُ وَقَدْ بَادَرُوا بِالرَّحِيلِ، فَجَلَسْتُ فِي الْحَدَاجَةِ وَقَدْ رَأَوْنِي حِينَ حَرَّكْتُ السُّتُورَ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِيهَا ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي فَإِذَا قَدْ نَسِيتُ قِلَادَةً كَانَتْ مَعِي، فَخَرَجْتُ مُسْرِعَةً أَطْلُبُهَا، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْقَوْمُ قَدْ سَارُوا فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى إِلَّا الْغُبَارَ مِنْ بَعِيدٍ، فَإِذَا هُمْ قَدْ وَضَعُوا الْحَدَاجَةَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ لَا يَرَوْنِي إِلَّا أَنِّي فِيهَا لِمَا رَأَوْا مِنْ خِفَّتِي، فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ، فَقُلْتُ: مَنِ الرَّجُلُ؟، قَالَ: صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتِ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قُلْتُ: أَدِرْ عَنِّي وَجْهَكَ وَضَعْ رِجْلَكَ عَلَى ذِرَاعِ بَعِيرِكَ، قَالَ: أَفْعَلُ وَنُعْمَةُ عَيْنٍ وَكَرَامَةٌ، قَالَتْ: فَأَدْرَكْتُ النَّاسَ حِينَ نَزَلُوا، فَذَهَبَ فَوَضَعَنِي عِنْدَ الْحَدَاجَةِ، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّاسُ وَلَا أَشْعُرُ، قَالَتْ: وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ أَبَوَيَّ وَأَنْكَرْتُ رَسُولَ اللهِ وَلَا أَعْلَمُ مَا قَدْ كَانَ قِيلَ حَتَّى دَخَلَتْ خَادِمَتِي أَوْ رَبِيبَتِي فَقَالَتْ: كَذَا، قَالَتْ: وَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ: مَا أَغْفَلَكِ؟، فَأَخَذَتْنِي حُمَّى نَافِضٌ، فَأَخَذَتْ أُمِّي كُلَّ ثَوْبٍ فِي الْبَيْتِ فَأَلْقَتْهُ عَلَيَّ، فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللهِ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «مَا تَرَوْنَ؟» ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَا أَكْثَرَ النِّسَاءِ وَتَقْدِرُ عَلَى الْبَدَلِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ وَعَلَيْكَ يَنْزِلُ الْوَحْيُ وَأَمْرُنَا لِأَمْرِكَ تَبَعٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَاللهِ لَيُبَيِّنُنَّهُ اللهُ فَلَا تَعْجَلْ، قَالَتْ: وَقَدْ صَارَ وَجْهُ أَبِي كَأَنَّهُ صُبَّ عَلَيْهِ الزِّرْنِيخُ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ فَرَأَى مَا بِي، قَالَ: «مَا لِهَذِهِ؟» ، قَالَتْ أُمِّي: مِمَّا لِهَذِهِ مِمَّا قُلْتُمْ وَقِيلَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَتْ: فَزَادَنِي ذَلِكَ عَلَى مَا عِنْدِي، قَالَتْ: وَأَتَانِي فَقَالَ: «اتَّقِي اللهَ يَا عَائِشَةُ، وَإِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَتُوبِي إِلَى اللهِ، فَإِنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ» ، قَالَتْ: وَطَلَبْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: غَيْرَ أَنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: ١٨] {إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي} [يوسف: ٨٦] وَحُزْنِي إِلَى اللهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ، قَالَتْ: فَبَيْنَا رَسُولُ اللهِ مَعَ أَصْحَابِهِ وَوَجْهُهُ كَأَنَّمَا ذِيبَ عَلَيْهِ الزِّرْنِيخُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَطْرِفْ، فَعَرَفَ أَصْحَابُهُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ وَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِهِ، وَهُوَ يَتَهَلَّلُ وَيُسْفِرُ، فَلَمَّا قُضِيَ الْوَحْيُ، قَالَ: «أَبْشِرْ يَا أَبَا بَكْرٍ، قَدْ أَنْزَلَ اللهُ عُذْرَ ابْنَتِكَ وَبَرَاءَتَهَا» فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا فَبَشَّرَهَا، قَالَتْ: وَقَرَأَ عَلَيْهِ مَا نَزَلَ فِيَّ، قَالَتْ: وَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ مُسْرِعًا يَكَادُ أَنْ يَنْكَبَّ، قَالَتْ: فَقُلْتُ بِحَمْدِ اللهِ لَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ الَّذِي جِئْتَ مِنْ عِنْدِهِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِي فَأَخَذَ بِكَفِّي فَانْتَزَعْتُ يَدَيَّ مِنْهُ، فَضَرَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: أَتَنْزِعِينَ كَفَّكِ مِنْ رَسُولِ اللهِ؟ أَوَبِرَسُولِ اللهِ تَفْعَلِينَ هَذَا؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَتْ: فَهَذَا كَانَ أَمْرِي
ترجمہ

…اور مہاجرین میں سے ایک شخص نے مجھ سے کہا: تم کتنی بےخبر ہو! مجھے کپکپی والا بخار چڑھ گیا، تو میری والدہ نے گھر کا ہر کپڑا لا کر مجھ پر ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے کچھ صحابہ سے مشورہ کیا اور پوچھا: ”تمہاری کیا رائے ہے؟“ ان میں سے کسی نے کہا: عورتیں بہت ہیں اور آپ بدل سکتے ہیں۔ کسی نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ پر وحی نازل ہوتی ہے، ہمارا معاملہ آپ کے معاملے کے تابع ہے۔ اور کسی نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ اس بات کو ضرور واضح کر دے گا، جلدی نہ کریں۔ (راوی کہتی ہیں) میرے والد کا چہرہ ایسا ہو گیا گویا اس پر زرنیخ (زہریلا سفوف) چھڑکا گیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میری حالت دیکھ کر فرمایا: ”اسے کیا ہوا ہے؟“ میری والدہ نے کہا: اسے وہی ہوا ہے جو تم نے اور جو کہا گیا اس نے کہا۔ آپ ﷺ نے کچھ کلام نہ کیا اور کچھ نہ فرمایا۔ اس سے میری تکلیف میں مزید اضافہ ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ میرے پاس آئے اور فرمایا: ”عائشہ! اللہ سے ڈرو، اور اگر تم سے اس میں سے کچھ سرزد ہوا ہو تو اللہ کی طرف توبہ کرو، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے۔“ میں نے یعقوب کا نام ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آیا، تو میں نے کہا: سوائے اس کے کہ میں وہی کہوں جو یوسف کے والد نے کہا تھا: ”پس صبرِ جمیل ہی بہتر ہے، اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے“ [سورۃ یوسف: 18]، ”میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ سے کرتا ہوں“ [سورۃ یوسف: 86]، اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتی ہوں جو تم نہیں جانتے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ کا چہرہ ایسا ہو گیا گویا اس پر زرنیخ ملا دیا گیا ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ اور آپ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ پلک نہ جھپکتے، اس سے صحابہ سمجھ جاتے کہ آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے، اور وہ آپ ﷺ کے چہرے کی طرف دیکھنے لگتے جبکہ وہ کھل رہا ہوتا اور روشن ہو رہا ہوتا۔ جب وحی مکمل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوبکر! خوشخبری ہو، اللہ نے تمہاری بیٹی کی معذرت اور براءت نازل فرما دی ہے۔“ وہ ان کے پاس گئے اور انہیں یہ خوشخبری سنائی۔ (راوی کہتی ہیں) اور آپ ﷺ نے میرے بارے میں جو کچھ نازل ہوا تھا وہ تلاوت فرمایا۔ (راوی کہتی ہیں) ابوبکر تیزی سے آگے بڑھے، گویا گرنے کے قریب تھے۔ میں نے کہا: اللہ کی حمد کے ساتھ، تمہارے ساتھی کی تعریف کے بغیر جس کے پاس سے تم آئے ہو۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور میرے سرہانے بیٹھ کر میرا ہاتھ تھام لیا، میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ ابوبکر نے مجھے مارا اور کہا: تم رسول اللہ ﷺ سے اپنا ہاتھ کھینچ رہی ہو؟ کیا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے۔ (راوی کہتی ہیں) یہی میرا معاملہ تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19457
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 118، حدیث 153