المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك — باب باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں) — باب
حدیث نمبر: 19381
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ سَهْلٍ الْقَنْطَرِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُعْطِيتُ سِتًّا مَا أُعْطِيَتْهَا امْرَأَةٌ بَعْدَ مَرْيَمَ، لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ حِينَ أَمَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَوَّجَنِي، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے چھ ایسی چیزیں دی گئیں جو مریم علیہا السلام کے بعد کسی عورت کو نہیں دی گئیں: جب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ مجھ سے نکاح کریں تو جبریل علیہ السلام میری تصویر اپنی ہتھیلی میں لے کر اترے۔ اور آپ ﷺ نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا، اور میرے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔ اور میری براءت آسمان سے نازل ہوئی۔
اور پھر راوی نے وہی حدیث بیان کی جو اس سے ملتی جلتی ہے۔