حدیث نمبر: 19380
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَزِيعٍ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا وَأَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكْرًا، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ لِغَيْرِي، وَكَانَ لِي يَوْمَيْنِ وَلَيْلَتَيْنِ، وَكَانَ لِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَأَنْزَلَ فِي عُذْرٍ مِنَ السَّمَاءِ كَادَ أَنْ يَهْلِكَ بِي فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي "
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے سات ایسی چیزیں دی گئیں جو نبی کریم ﷺ کی کسی اور بیوی کو نہیں دی گئیں: میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میرا والد آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا، اور میرے سوا کسی کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔ اور جبریل علیہ السلام آپ ﷺ پر وحی لے کر اترتے تو میں آپ ﷺ کے ساتھ ایک ہی چادر میں ہوتی، اور یہ کسی اور کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ اور میرے حصے میں دو دن اور دو راتیں تھیں، جبکہ آپ ﷺ کی دیگر بیویوں کے حصے میں ایک دن اور ایک رات۔ اور میری براءت آسمان سے نازل ہوئی، جس میں لوگوں کا ایک گروہ میری وجہ سے ہلاک ہوتے ہوتے بچا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی روح میری چھاتی اور گردن کے درمیان قبض ہوئی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19380
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 30، حدیث 75