حدیث نمبر: 19382
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، كِلَاهُمَا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الضَّحَّاكِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خِلَالٌ فِيَّ سَبْعٌ لَمْ يَكُنْ فِي أَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا أَتَى اللهُ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ، وَاللهِ مَا أَقُولُ هَذَا فَخْرًا عَلَى أَحَدٍ مِنْ صَوَاحِبِي» ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ: وَمَا هُنَّ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: «نَزَلَ الْمَلَكُ بِصُورَتِي، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَأُهْدِيتُ إِلَيْهِ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَتَزَوَّجَنِي بِكْرًا لَمْ يَشْرُكْهُ فِيَّ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ الْوَحْيُ يَأْتِيهِ وَأَنَا وَهُوَ فِي لِحَافٍ وَاحِدٍ، وَكُنْتُ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَبِنْتَ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ، وَقَدْ نَزَلَ فِيَّ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَدْ كَادَتِ الْأُمَّةُ تَهْلِكُ فِيَّ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ يَرَهُ أَحَدٌ مِنْ نِسَائِهِ غَيْرِي، وَقُبِضَ فِي بَيْتِي لَمْ يَلِهِ أَحَدٌ غَيْرِي وَالْمَلَكُ»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھ میں سات ایسی خصلتیں ہیں جو مریم بنت عمران علیہا السلام کے سوا کسی عورت میں نہیں تھیں، اور اللہ کی قسم! میں یہ بات اپنی سہیلیوں پر فخر کے طور پر نہیں کہہ رہی۔ اس پر عبداللہ بن صفوان نے پوچھا: اے ام المومنین! وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے سات سال کی عمر میں نکاح فرمایا اور نو سال کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ اور آپ ﷺ نے مجھ سے بحیثیت کنواری نکاح فرمایا اور اس میں کوئی اور آپ کا شریک نہ تھا۔ اور آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو میں اور آپ ایک ہی چادر میں ہوتے۔ اور میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی، اور اپنے والد کی بیٹی تھی جو آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں۔ اور امت میری وجہ سے ہلاک ہوتے ہوتے بچی۔ اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، حالانکہ آپ ﷺ کی بیویوں میں سے میرے سوا کسی نے انہیں نہیں دیکھا۔ اور آپ ﷺ کی وفات میرے گھر میں ہوئی، میرے اور فرشتے کے سوا کوئی اور اس کا ذمہ دار نہ تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19382
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 31، حدیث 77