حدیث نمبر: 19379
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " أُعْطِيتُ خِصَالًا مَا أُعْطِيَتْهَا امْرَأَةٌ: مَلَكَنِي وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأَتَاهُ الْمَلَكُ بِصُورَتِي فِي كَفِّهِ فَنَظَرَ إِلَيْهَا، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ وَلَمْ تَرَهُ امْرَأَةٌ غَيْرِي، وَكُنْتُ أَحَبَّ نِسَائِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَ أَبِي أَحَبَّ أَصْحَابِهِ إِلَيْهِ، وَمَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْضَتَهُ وَلَمْ تَشْهَدْهُ غَيْرِي وَالْمَلَائِكَةُ "
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے ایسی خصوصیات دی گئیں جو کسی اور عورت کو نہیں دی گئیں: آپ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر چھ سال تھی، اور فرشتہ آپ ﷺ کے پاس میری تصویر اپنی ہتھیلی میں لے کر آیا اور آپ ﷺ نے اسے دیکھا۔ اور میری رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔ اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، حالانکہ میرے سوا کسی اور عورت نے انہیں نہیں دیکھا۔ اور میں آپ ﷺ کی بیویوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی، اور میرے والد آپ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ جس مرض میں فوت ہوئے، اس میں میرے اور فرشتوں کے سوا کوئی اور موجود نہ تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19379
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 29، حدیث 74