حدیث نمبر: 19328
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَحْسَنَ عَلَيْهَا الثَّنَاءَ، فَقُلْتُ: مَا تَذْكُرُ مِنْهَا وَقَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِهَا خَيْرًا؟، قَالَ: «مَا أَبْدَلَنِي اللهُ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، صَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللهُ مِنْهَا الْوَلَدَ إِذْ لَمْ يَرْزُقْنِي مِنْ غَيْرِهَا»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ جب بھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی بہت تعریف فرماتے۔ میں نے عرض کیا: آپ ان کا ذکر کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ نے آپ کو ان کے بدلے میں بہتر عطا فرما دیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے ان سے بہتر کوئی نہیں دیا۔ انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی جب لوگوں نے مجھے محروم رکھا، اور اللہ نے مجھے ان سے اولاد عطا کی جبکہ کسی اور سے مجھے اولاد نہیں دی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19328
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 13، حدیث 22