حدیث نمبر: 19329
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ الطَّعَامِ وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَغْمُرْ يَدَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ كَانَتْ تَأْتِينَا أَيَّامَ خَدِيجَةَ، وَإِنَّ حُسْنَ الْعَهْدِ، أَوْ حَفِظَ الْعَهْدِ مِنَ الْإِيمَانِ» ، وَلَمَّا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِكَبِيرَةِ السِّنِّ حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا ذَنْبِي أَنْ رَزَقَهَا اللهُ مِنِّي الْوَلَدَ، وَلَمْ يَرْزُقْكِ؟، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَذْكُرُهَا بَعْدَ هَذَا إِلَّا بِخَيْرٍ
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ ﷺ اس میں سے کھاتے اور اس عورت کے آگے رکھتے جاتے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اپنے ہاتھ اتنے مت لتھیڑیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ خدیجہ کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی، اور عہد کی پاسداری ایمان کا حصہ ہے۔“ اور جب آپ ﷺ نے خدیجہ کا ذکر کیا تو مجھے وہی غیرت آئی جو عورتوں کو آتی ہے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو ایک بوڑھی عورت کے بدلے ایک نوجوان عورت عطا فرما دی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آیا، پھر فرمایا: ”میرا کیا قصور ہے کہ اللہ نے اسے مجھ سے اولاد عطا کی اور تمہیں نہیں دی؟“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آج کے بعد میں ان کا ذکر بھلائی کے سوا کبھی نہیں کروں گی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19329
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 14، حدیث 23