المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
مناقب خديجة رضي الله عنها باب: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے فضائل
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ الطَّعَامِ وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَغْمُرْ يَدَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذِهِ كَانَتْ تَأْتِينَا أَيَّامَ خَدِيجَةَ، وَإِنَّ حُسْنَ الْعَهْدِ، أَوْ حَفِظَ الْعَهْدِ مِنَ الْإِيمَانِ» ، وَلَمَّا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَخَذَنِي مَا يَأْخُذُ النِّسَاءَ مِنَ الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ بِكَبِيرَةِ السِّنِّ حَدِيثَةَ السِّنِّ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا ذَنْبِي أَنْ رَزَقَهَا اللهُ مِنِّي الْوَلَدَ، وَلَمْ يَرْزُقْكِ؟، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَذْكُرُهَا بَعْدَ هَذَا إِلَّا بِخَيْرٍسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ کے پاس کھانا لایا گیا تو آپ ﷺ اس میں سے کھاتے اور اس عورت کے آگے رکھتے جاتے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اپنے ہاتھ اتنے مت لتھیڑیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ خدیجہ کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی، اور عہد کی پاسداری ایمان کا حصہ ہے۔“ اور جب آپ ﷺ نے خدیجہ کا ذکر کیا تو مجھے وہی غیرت آئی جو عورتوں کو آتی ہے، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو ایک بوڑھی عورت کے بدلے ایک نوجوان عورت عطا فرما دی ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آیا، پھر فرمایا: ”میرا کیا قصور ہے کہ اللہ نے اسے مجھ سے اولاد عطا کی اور تمہیں نہیں دی؟“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، آج کے بعد میں ان کا ذکر بھلائی کے سوا کبھی نہیں کروں گی۔