❮
❯
حدیث نمبر: 19327
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ لَمْ يَكُنْ يَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءٍ عَلَيْهَا وَالِاسْتِغْفَارِ لَهَا، فَذَكَرَهَا ذَاتَ يَوْمٍ وَاحْتَمَلَتْنِي الْغَيْرَةُ إِلَى أَنْ قُلْتُ: قَدْ عَوَّضَكَ اللهُ مِنْ كَبِيرَةِ السِّنِّ، قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضِبَ غَضَبًا سَقَطَ فِي جِلْدِي، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: اللهُمَّ إِنَّكَ إِنْ أَذْهَبْتَ عَنِّي غَضَبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَذْكُرْهَا بِسُوءٍ مَا بَقِيتُ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي قَدْ لَقِيتُ، قَالَ: «كَيْفَ قُلْتِ؟ وَاللهِ لَقَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَرُزِقَتْ مِنِّي الْوَلَدَ إِذْ حُرِمْتِيهِ مِنِّي» ، فَغَدَا بِهَا عَلَيَّ وَرَاحَ شَهْرًا
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی تعریف کرنے اور ان کے لیے استغفار کرنے سے اکتاتے نہیں تھے۔ ایک دن آپ ﷺ نے ان کا ذکر کیا تو غیرت نے مجھے یہاں تک آمادہ کیا کہ میں نے کہہ دیا: اللہ نے آپ کو بڑی عمر والی کے بدلے (بہتر) عطا کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کو ایسا غصہ آیا کہ میرے ہوش اڑ گئے، تو میں نے دل میں کہا: اے اللہ! اگر تو رسول اللہ ﷺ کا غصہ مجھ سے دور کر دے تو میں جیتے جی ان (سیدہ خدیجہ) کا برائی سے ذکر نہیں کروں گی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے میری یہ حالت دیکھی تو فرمایا: ”تم نے کیسے کہا؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ پر ایمان لائیں جب لوگوں نے میرا انکار کیا، اور انہوں نے میری تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، اور انہیں مجھ سے اولاد نصیب ہوئی جبکہ تم مجھ سے اس سے محروم رہیں۔“ پھر آپ ﷺ ایک مہینے تک صبح و شام اسی بات کا ذکر کرتے رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19327
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 13، حدیث 21