المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة وسنها ووفاتها ومن أخبارها باب: رسول اللہ ﷺ کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، ان کی عمر، وفات اور احوال کا ذکر
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْإِخْمِيمِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي عَمِّي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَائِذٍ الْمَخْزُومِيِّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ بِمَكَّةَ عَائِشَةَ لَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا، ثُمَّ تَزَوَّجَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكَنِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيْمَةَ، وَكَانَ اسْمُهَا هِنْدَ وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ أَبِي سَلَمَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، ثُمَّ تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، ثُمَّ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ، وَسَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنَ أَبِي ضِرَارٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ الْمُرَيْسِيعَ، وَسَبَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ مِنْ بَنِي النَّضِيرِ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ فَقَسَمَ لَهَا وَاسْتَسَرَّ رَيْحَانَةَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَلَحِقَتْ بِأَهْلِهَا وَاحْتَجَبَتْ وَهِيَ عِنْدَ أَهْلِهَا، وَطَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيَّةَ مِنْ أَجْلِ بَيَاضٍ كَانَ بِهَا، وَتُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ الْهِلَالِيَّةُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ، وَبَلَغَنَا أَنَّ الْعَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللهُ نِسَاءَهُ فَنَكَحَتْ ابْنَ عَمٍّ لَهَا مِنْ قَوْمِهَا، وَوَلَدَتْ فِيهِمْ»ابوامامہ بن سہل اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، وہ آپ ﷺ سے پہلے عتیق بن عائذ مخزومی کے نکاح میں تھیں۔ پھر مکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، ان کے سوا آپ ﷺ نے کسی اور کنواری سے نکاح نہیں کیا۔ پھر سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، وہ آپ ﷺ سے پہلے خنیس بن حذافہ سہمی کے نکاح میں تھیں۔ پھر سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، وہ آپ ﷺ سے پہلے سکن بن عمرو، بنو عامر بن لؤی کے بھائی، کے نکاح میں تھیں۔ پھر سیدہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، وہ آپ ﷺ سے پہلے عبیداللہ بن جحش اسدی کے نکاح میں تھیں۔ پھر سیدہ ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، جن کا نام ہند تھا اور وہ آپ ﷺ سے پہلے ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالاسد بن عبدالعزیٰ کے نکاح میں تھیں۔ پھر سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، وہ آپ ﷺ سے پہلے زید بن حارثہ کے نکاح میں تھیں۔ پھر سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ اور اس غزوہ میں، جس میں آپ ﷺ نے بنو مصطلق کے بت مناۃ (مریسیع) کو گرایا، سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہا کو قید کیا (اور ان سے نکاح کیا)۔ اور بنو نضیر سے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کو قید کیا، جو اللہ کی عطا کردہ غنیمت میں سے تھیں، آپ ﷺ نے انہیں (اپنے حصے میں) رکھا۔ اور بنو قریظہ کی ریحانہ رضی اللہ عنہا کو کنیز کے طور پر رکھا، پھر انہیں آزاد کر دیا، تو وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں اور پردہ کرتی رہیں جبکہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس ہی رہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے عالیہ بنت ظبیان کو طلاق دے دی، اور بنو عمرو بن کلاب کی ایک عورت سے جدائی اختیار کی، اور بنو الجون کندیہ کی ایک عورت سے، جسم پر برص (کے نشان) کی وجہ سے، جدائی اختیار کی۔ اور سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس وقت ہوا جب رسول اللہ ﷺ حیات تھے۔ اور ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ عالیہ بنت ظبیان نے، اس سے پہلے کہ اللہ نے آپ ﷺ کی ازواج (کو دوسروں پر) حرام قرار دیا، اپنی قوم میں سے اپنے ایک چچازاد سے نکاح کر لیا اور انہی میں اولاد پیدا کی۔