المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا هلال أبو هلال التيمي باب: جن کی کنیت ابوہلال ہے — سیدنا ابوہلال تیمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19151
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ووَرْدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ لَبِيدٍ قَالَا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي مَنْ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ هِلَالٍ، مِنْ بَنِي تَيْمِ اللهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ وَهُوَ بِالْمَدِينَةِ بَعْدَ مُهَاجَرِهِ إِلَيْهَا، فَوَافَيْنَاهُ يَضْرِبُ أَعْنَاقَ أُسَارَى عَلَى مَاءٍ قَلِيلٍ فَقُتِلَ عَلَيْهِ حَتَّى سَفَحَ الدَّمُ الْمَاءَ قَالَ صَفْوَانُ: سَفَحَ، يَعْنِي غَطَّى الْمَاءَ،ترجمہ
سیدنا ابوہلال تیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ایک آدمی کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، جبکہ آپ ﷺ اپنی ہجرت کے بعد مدینہ میں تھے، تو ہم آپ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ ایک تھوڑے سے پانی کے پاس قیدیوں کی گردنیں اڑا رہے تھے، چنانچہ اسے وہیں قتل کر دیا گیا یہاں تک کہ خون پانی پر پھیل گیا۔ (راوی) صفوان کہتے ہیں: ”سفح“ کا مطلب ہے کہ اس نے پانی کو ڈھانپ دیا۔