المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري باب: جن کی کنیت ابونملہ ہے — سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19077
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ: أَنَّ أَبَاهُ أَبَا نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيَّ، أَخْبَرَنَا أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ وَمَرَّ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُ أَعْلَمُ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ يُصَدَّقُوا، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ يُكَذَّبُوا»ترجمہ
سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آیا، اور اسی دوران ایک جنازہ گزرا۔ اس نے کہا: اے محمد! کیا یہ جنازہ بات کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: یہ بات کرتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب جو کچھ تمہیں بتائیں، نہ اسے سچ سمجھو نہ جھوٹ، اور کہو: ہم اللہ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر وہ باطل ہو تو اسے سچ نہ سمجھو، اور اگر حق ہو تو اسے جھوٹ نہ سمجھو۔“