المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا نملة أبو نملة الأنصاري باب: جن کی کنیت ابونملہ ہے — سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19078
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ الْحَلَبِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ الرُّصَافِيُّ، أَخْبَرَنَا جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ أَبَا نَمْلَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ هَلْ تَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُ أَعْلَمُ» ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا تَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَلَا تُصَدِّقُوهُمْ، وَقُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَرُسُلِهِ وَكُتُبِهِ، فَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوا، وَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوا»ترجمہ
سیدنا ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہودیوں میں سے ایک آدمی آیا اور کہا: اے محمد! کیا یہ جنازہ بات کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔“ یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ بات کرتا ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہل کتاب جو کچھ تمہیں بتائیں، نہ اسے جھوٹ سمجھو نہ سچ، اور کہو: ہم اللہ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے۔ اگر حق ہو تو اسے جھوٹ نہ سمجھو، اور اگر باطل ہو تو اسے سچ نہ سمجھو۔“