المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا رهم أبو رهم السمعي ويقال السماعي باب: جن کی کنیت ابورہم ہے — سیدنا ابورہم سمعی رضی اللہ عنہ (یہ بھی کہا گیا: سماعی)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، وَأَبُو زَيْدٍ الْحَوْطِيَّانِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الْأَطْرَابُلْسِيُّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَعِيدٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْخَيْرِ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْيَزَنِيُّ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَسْرِقِ السُّرَّاقِ مَنْ يَسْرِقُ لِسَانَ الْأَمِيرِ، وَإِنْ مِنْ أَعْظَمِ الْخَطَايَا مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَإِنَّ مِنَ الْحَسَنَاتِ عِيَادَةَ الْمَرِيضِ، وَإِنَّ مِنْ تَمَامِ عِيَادَتِهِ أَنْ تَضَعَ يَدَكَ عَلَيْهِ وَتَسْأَلَهُ كَيْفَ هُوَ، وَإِنَّ مِنْ أَفْضَلِ الشَّفَاعَاتِ أَنْ تَشْفَعَ بَيْنَ اثْنَيْنِ فِي نِكَاحٍ حَتَّى تَجْمَعَ بَيْنَهُمَا، وَإِنَّ مِنْ لِبْسَةِ الْأَنْبِيَاءِ الْقَمِيصُ قَبْلَ السَّرَاوِيلِ، وَإِنَّ مِمَّا يُسْتَجَابُ بِهِ عِنْدَ الدُّعَاءِ الْعُطَاسُ»سیدنا ابورہم سمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے بڑا چور وہ ہے جو حاکم کی زبان چراتا ہے، اور سب سے بڑی خطاؤں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کا مال ناحق ہتھیا لے، اور نیکیوں میں سے مریض کی عیادت کرنا ہے، اور عیادت کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنا ہاتھ اس پر رکھو اور اس سے پوچھو کہ وہ کیسا ہے، اور سب سے افضل شفاعتوں میں سے یہ ہے کہ تم دو لوگوں کے درمیان نکاح میں سفارش کرو یہاں تک کہ انہیں جوڑ دو، اور انبیاء کے لباس میں سے یہ ہے کہ قمیص شلوار سے پہلے پہنی جائے، اور دعا کے وقت جن چیزوں سے قبولیت کی امید کی جاتی ہے ان میں چھینک کا آنا بھی ہے۔“