المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن سيف بن جارية اليربوعي باب: سیدنا یزید بن سیف بن جاریہ یربوعی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18866
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا أَبُو يُوسُفَ القَلُّوسِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَابَهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْزُوقٍ قَالَا: ثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو هَمَّامٍ الْخَارِكي، ثَنَا مَوْدُودُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ كُرَيْبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سَيْفِ بْنِ جَارِيَةَ الْيَرْبُوعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ذَهَبَ بِمَالِي كُلِّهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ عِنْدِي مَالٌ أُعْطِيكَهُ» ثُمَّ قَالَ: " هَلْ لَكَ أَنْ تَعْرِفَ عَلَى قَوْمِكَ؟ أَو أَلَا أَعْرِفُكَ عَلَى قَوْمِكَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: «أَمَا إِِنَّ الْعَرِيفَ يُدْفَعُ فِي النَّارِِ دَفْعًا»ترجمہ
سیدنا یزید بن سیف بن جاریہ یربوعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بنی تمیم کے ایک شخص نے میرا سارا مال لے لیا ہے۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”میرے پاس ایسا کوئی مال نہیں جو میں تمہیں دے سکوں۔“ پھر فرمایا: ”کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں اپنی قوم کا عریف (نگران) بنا دوں؟ یا کیا میں تمہیں اپنی قوم کا عریف نہ بنا دوں؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! عریف کو جہنم میں دھکیلا جائے گا۔“