المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن شجرة باب: سیدنا یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنِ حَسَّانَ الْمُؤَدِّبُ، كِلَاهُمَا، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ شَجَرَةَ مِمَّن يُصَدَّقُ قَوْلُهُ وَفِعْلُهُ قَالَ: خَطَبَنَا، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ مَا أَحْسَنَ نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ تُرَى مِنْ بَيْنِ أَخْضَرَ وَأَصْفَرَ وَأَحْمَرَ وَفِي الرِّحَالِ مَا فِيهَا، وَكَانَ يَقُولُ إِذَا صَفَّ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ وَصُفُّوا لِلْقِتَالِ: فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَأَبْوَابُ النَّارِ، وَزُيِّنَ الْحُورُ الْعِينُ فَاطَّلَعْنَ، فَإِذَا أَقْبَلَ الرَّجُلُ قُلْنَ: اللهُمَّ انْصُرْهُ، وَإِذَا أَدْبَرَ اِحْتَجَبْنَ مِنْهُ، وَقُلْنَ اللهُمَّ: اغْفِرْ لَهُ فَانْهِكُوا وُجُوهَ الْقَوْمِ فِدَاءً لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي وَلَا تَخْزُوا الْحُورَ الْعِينَ، فَإِنَّ أَوَّلَ قَطْرَةٍ تَنْضَحُ مِنْ دَمِهِ تُكَفِّرُ، عَنْهُ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلَهُ، وَتَنْزِلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَانِ مِنَ الحُورِ الْعِينِ تَمْسَحَانِ مِنْ وَجْهِهِ التُّرَابَ وَتَقُولَانِ: قَد أَنَى لَكَ وَيَقُولُ: قَدْ أَنَى لَكُمْ ثُمَّ يُكْسَى مِائَةَ حُلَّةٍ لَيْسَ مِنْ نسيجِ بَنِي آدَمَ، وَلَكِنْ مِنْ نَبْتِ الْجَنَّةِ لَو وُضِعَتْ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ لَوَسِعَتْ، وَكَانَ يَقُولُ: أُنْبِئْتُ أَنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ حَسَّانَسیدنا یزید بن شجرہ رضی اللہ عنہ - جن کا کہنا اور کرنا سچا مانا جاتا تھا - بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! اللہ کی نعمت کو یاد رکھو، اللہ کی نعمت تم پر کتنی اچھی ہے، سبز، زرد اور سرخ کے درمیان نظر آتی ہے اور کجاووں میں جو کچھ ہے وہ موجود ہے۔
اور جب لوگ نماز کے لیے صف بستہ ہوتے اور جنگ کے لیے بھی صف بستہ ہوتے تو وہ کہا کرتے تھے: آسمان کے دروازے، جنت کے دروازے اور جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور حورِ عین سج سنور کر جھانکنے لگتی ہیں۔ جب کوئی آدمی آگے بڑھتا ہے تو وہ کہتی ہیں: اے اللہ! اس کی مدد فرما، اور جب وہ پیٹھ پھیرتا ہے تو وہ اس سے پردہ کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے۔ پس دشمن کے چہروں کو زخمی کرو، میرے ماں باپ تم پر قربان، اور حورِ عین کو شرمندہ نہ کرو، کیونکہ شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے اعمال معاف کر دیے جاتے ہیں، اور حورِ عین میں سے دو بیویاں اس پر اتر کر اس کے چہرے سے مٹی صاف کرتی ہیں اور کہتی ہیں: اب وقت آ گیا، اور وہ کہتا ہے: اب وقت آ گیا۔ پھر اسے سو جوڑے پہنائے جاتے ہیں جو بنی آدم کے بنے ہوئے نہیں بلکہ جنت کی پیداوار سے ہوں گے، اگر ان میں سے ایک جوڑا اس کی دو انگلیوں کے درمیان رکھا جائے تو وہ وسیع ہو جائے۔ اور وہ کہا کرتے تھے: مجھے خبر دی گئی ہے کہ تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں۔