حدیث نمبر: 18860
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الزِّيبَقِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: وَفَدْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَنِي عَنِ الْيَمَامَةِ «فِيمَنِ الْعَدَدُ مِنْ أَهْلِهَا؟» فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ فِي بَنِي عَبْدِ اللهِ بْنِ الدُّؤَلِ ثُمَّ كَرِهْتُ أَنْ أَكْذَبَ نَبِيَّ اللهِ فَقُلْتُ: الْعَدَدُ مِنْهُم فِي بَنِي عُبَيْدٍ قَالَ: «صَدَقْتَ أَرْضٌ نَبَتَتْ عَلَى شِدَّةٍ وَلَن يَهْلَكَ أَهْلُهَا» قَالُوا " يَا رَسُولَ اللهِ، بِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «بِأَنَّهُمْ يَعْمَلُونَ بِأَيْدِيهِمْ وَيُؤاكِلُونَ عَبِيدَهُمْ»
ترجمہ

سیدنا یزید بن معبد حنفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے یمامہ کے بارے میں پوچھا: ”اس کے باشندوں میں سب سے زیادہ تعداد کس قبیلے کی ہے؟“ میں نے چاہا کہ بنی عبداللہ بن دؤل کا نام لوں، پھر مجھے یہ ناپسند ہوا کہ اللہ کے نبی سے جھوٹ بولوں، چنانچہ میں نے کہا: ان کی سب سے زیادہ تعداد بنی عبید میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، یہ ایسی زمین ہے جو سختی میں پلی بڑھی ہے اور اس کے باشندے کبھی ہلاک نہیں ہوں گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں اور اپنے غلاموں کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18860
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 246، حدیث 640