حدیث نمبر: 18859
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ الصَّائِغُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ السُّلَمِيِّ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا سَبَأُ؟ أَنَبِيٌّ كَانَ أَو امْرَأَةً؟ قَالَ: «بَل رَجُلٌ مِنَ العَرَبِ» فَقَالَ: مَا وَلَدَ؟ قَالَ: " وَلَدَ عَشْرَةً: سَكَنَ الْيَمَنَ سِتَّةٌ، وَالشَّامَ أَرْبَعَةٌ، فَالَّذِينَ بِالْيَمَنِ كِنْدَةُ وَمَذْحِجُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأنْمَارُ وَحِمْيَرُ، وَبِالشَّامِ لَخْمٌ وَجُذَامُ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُ "
ترجمہ

سیدنا یزید بن حصین سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سبا کیا ہے؟ کیا یہ کسی نبی کا نام ہے یا کسی عورت کا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ یہ عرب کا ایک آدمی تھا۔“ اس نے پوچھا: اس کی کتنی اولاد تھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے دس بیٹے تھے، ان میں سے چھ یمن میں اور چار شام میں جا بسے۔ یمن میں بسنے والے کندہ، مذحج، ازد، اشعریین، انمار اور حِمیر تھے، اور شام میں بسنے والے لخم، جذام، عاملہ اور غسان تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الياء / حدیث: 18859
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 245، حدیث 639