المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد أبو عمر باب: سیدنا یزید ابوعمر رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18858
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْكَرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ رَجَاءٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا خَطَّابُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَقْتُلُ عُصْفُورًا إِلَّا عَجَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ» يَا رَبِّ، هَذَا قَتَلَنِي عَبَثًا فَلَا هُو انْتَفَعَ بِقَتْلَى وَلَا هُو تَرَكَنِي فَأَعِيشُ فِي أَرْضِكَ "ترجمہ
سیدنا یزید ابوعمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو کوئی چڑیا کو بلاوجہ قتل کرتا ہے، وہ قیامت کے دن فریاد کرتے ہوئے کہے گی: اے میرے رب! اس نے مجھے بلاوجہ قتل کیا، نہ اس نے میرے قتل سے کوئی فائدہ اٹھایا اور نہ ہی مجھے چھوڑا کہ میں تیری زمین میں زندگی گزاروں۔“