المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن أخت نمر بن قاسط الكندي أبو السائب " وهو يزيد بن عبد الله بن سعد بن الأسود بن ثمامة بن الشيطان يقظان بن الحارث بن عمرو بن معاوية بن الحارث، والنمر حليف لبني عامر بن صعصعة كان يزيد حليفا لأبي سفيان بن حرب، وقد صحب النبي صلى الله عليه وسلم وأمره باب: سیدنا یزید، نمر بن قاسط کندی کے بھانجے، کنیت ابوسائب، رضی اللہ عنہ (آپ یزید بن عبداللہ بن سعد بن اسود بن ثمامہ بن شیطان یقظان بن حارث بن عمرو بن معاویہ بن حارث ہیں، نمر قبیلہ بنو عامر بن صعصعہ کا حلیف تھا؛ یزید ابوسفیان بن حرب کے حلیف تھے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اختیار کی اور آپ ﷺ نے انہیں امیر مقرر فرمایا)
حدیث نمبر: 18850
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لَا لَاعِبًا وَلَا جَادًّا، وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا»ترجمہ
سیدنا یزید بن اختِ نمر، ابوالسائب، رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان نہ لے، نہ مذاق میں نہ سنجیدگی سے، اور اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے لے تو وہ اسے واپس کر دے۔“