المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن عامر السوائي باب: سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْجَرْمِيُّ، قَالَا: ثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ نُوحِ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: جِئْتُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِمَّا فِي الظُّهْرِ وإِمَّا فِي الْعَصْرِ وَكُنْتُ صَلَّيْتُهُمَا فِي الْمَنْزِلِ، فَلَمَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ جَلَسْتُ وَلَمْ أدْخُلْ مَعَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَانْصَرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي جَالِسًا، فَقَالَ: «أَلَمْ تُسْلِمْ يَا يَزِيدُ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَد أَسْلَمْتُ، فَقَالَ: «مَا يَمْنَعُكُ أَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِي صَلَاتِهِمْ؟» قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي مَنْزِلِي، وَأَنَا أَحْسِبُ أَنْ قَد صَلَّيْتُمْ، قَالَ: «فَإِذَا جِئْتَ الصَّلَاةَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ يُصَلُّونَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَإِنْ كُنْتَ قَد صَلَّيْتَ تَكُونُ لَكَ نَافِلَةً وَهَذِه مَكْتُوبَةٌ»سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز میں پایا تو میں بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے پلٹے تو مجھے بیٹھا دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے یزید! کیا تُو مسلمان نہیں ہوا؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تجھے لوگوں کے ساتھ ان کی نماز میں شریک ہونے سے کس چیز نے روکا؟“ میں نے عرض کیا: میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا اور میرا خیال تھا کہ تم بھی پڑھ چکے ہو گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تُو نماز کے لیے آئے اور لوگوں کو نماز پڑھتے پائے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ، اور اگر تُو پہلے پڑھ چکا ہو تو وہ تیرے لیے نفل ہو گی اور یہ فرض شمار ہو گی۔“