المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يزيد بن عامر السوائي باب: سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18842
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ السَّائِبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ، قَالَ: عِنْدَ اِنْكَشَافَةِ اِنْكَشَفَهَا الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَتَتَبَّعَهُمُ الْكُفَّارُ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْضَةً مِنَ الأَرْضِ فَرَمَى بِهِ وُجُوهَهُمْ، وَقَالَ: «ارْجِعُوا شَاهَتِ الْوُجُوهُ» فَمَا مِنَّا أَحَدٌ يَلْقَى أَخَاهُ إِلَّا وَهُو يَشْكُو الْقَذَى وَيَمْسَحُ عَيْنَيْهِترجمہ
سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب حنین کے دن مسلمانوں کو پسپائی کا سامنا ہوا اور کفار ان کے پیچھے پڑ گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے زمین سے ایک مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور اسے ان کے چہروں کی طرف پھینکا اور فرمایا: ”واپس ہٹ جاؤ، چہرے بگڑ جائیں!“ تو ہم میں سے جو بھی اپنے بھائی سے ملتا وہ آنکھ میں پڑنے والے تنکے کی شکایت کرتا اور اپنی آنکھیں ملتا۔