❮
❯
حدیث نمبر: 18820
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَحِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلُهَا أَهْلُ الْكِتَابِ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ كَيْفَ تَأْمُرُنَا بِقُدُورِهِمْ وآنِيَتِهِمِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا وَإِلَّا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَاطْبُخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا "
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ يَرُدُّ عَلَى أَحَدِنَا كَلْبُهُ الْمُكَلَّبُ وَكَلْبُهُ لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ وَيَرُدُّ عَلَى أَحَدِنَا سَهْمُهُ فَمَاذَا نَأْكُلُ مِنْ ذَلِكَ؟ وَمَا نَدَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا رَدَّ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ إِذَا أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ، وَمَا رَدَّ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ، فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَاذْكُرْ اسْمَ اللهِ ثُمَّ كُلْ، وَمَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ إِذَا أَرْسَلْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ فَكُلْ»
فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَمَا الَّذِي لَا يَحِلُّ لَنَا؟ قَالَ: «الْحِمَارُ الْإِنْسِيُّ وَكُلُّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ»
ترجمہ

سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی سرزمین میں ہیں جس کے باشندے اہلِ کتاب ہیں، وہ سور کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو آپ ہمیں ان کی ہانڈیوں اور برتنوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا کچھ مل جائے (تو ٹھیک)، ورنہ انہیں پانی سے دھو لو اور ان میں پکاؤ اور پیو۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اہلِ شکار ہیں، ہم میں سے کسی کا سدھایا ہوا کتا اور غیر سدھایا ہوا کتا شکار لے کر واپس آتا ہے، اور ہم میں سے کسی کا تیر واپس آتا ہے، تو ہم اس میں سے کیا کھائیں اور کیا چھوڑ دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرا سدھایا ہوا کتا تجھے واپس لوٹا دے، جبکہ تُو نے اسے چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا ہو، تو کھا، اور جو تیرا غیر سدھایا ہوا کتا تجھے واپس لوٹا دے، اگر تُو نے اسے زندہ پا کر ذبح کیا ہو تو اللہ کا نام لے کر کھا، اور جو تیرا تیر تجھے واپس لوٹا دے، جبکہ تُو نے اسے چلاتے وقت اللہ کا نام لیا ہو، تو کھا۔“
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے لیے کیا حلال نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پالتو گدھا اور ہر کچلی والا درندہ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب اللام ألف / حدیث: 18820
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 228، حدیث 600