المعجم الكبير للطبراني
باب اللام ألف— حرف لام الف
أبو الأشعث الصنعاني، عن أبي ثعلبة باب: ابوالاشعث صنعانی کی سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ يَحْيَى بْنِ أَبِي بُكَيْرٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّكَنِ، ثَنَا أَبُو قَحْذَمٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا بِأَرْضٍ أَهْلُهَا أَهْلُ كِتَابٍ يَأْكُلُونَ لُحُومَ الْخَنَازِيرِ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا فِي آنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ؟ قَالَ: «إِنَّ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَخُذُوهَا وَإِلَّا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا»
قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي بِأَرْضِ صَيْدٍ قَالَ: «إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِالْمُكَلَّبِ فَإِنْ أَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَاذْكُرْ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَكُلْ، وَمَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ فَاذْكُرْ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ وَكُلْ»
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا يَحْرُمُ عَلَيْنَا؟ قَالَ: «كُلُّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ»سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایسی سرزمین میں ہوں جس کے باشندے اہلِ کتاب ہیں، وہ سور کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو آپ ہمیں ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے سوا کچھ مل جائے تو وہ لے لو، ورنہ انہیں پانی سے دھو کر ان میں کھاؤ اور پیو۔“
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں شکار کی سرزمین میں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تُو اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑے اور اللہ کا نام لے اور وہ شکار کو مار ڈالے تو کھا، اور جب تُو اپنا وہ کتا چھوڑے جو سدھایا ہوا نہیں تو اگر تُو اسے زندہ پا کر ذبح کر سکے تو اس پر اللہ کا نام لے کر کھا، اور جو کچھ تیرا تیر تیری طرف واپس لائے تو اس پر اللہ کا نام لے کر کھا۔“
میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پر کیا حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر کچلی والا درندہ۔“