المعجم الكبير للطبراني
باب الهاء— حرف ہا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه هرماس هرماس بن زياد الباهلي باب: جن کا نام ہرماس ہے — سیدنا ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 18758
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُلَيْحَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، عَنِ الْهِرْمَاسِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى نَاقَتِهِ يَقُولُ: «إِيَّاكُمْ وَالْخِيَانَةَ، فَإِنَّهَا بِئْسَتُ الْبِطَانَةُ، وَإِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّهُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الشُّحُّ فَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَقَطَّعُوا أَرْحَامَهُمْ»ترجمہ
سیدنا ہرماس بن زیاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی اونٹنی پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”خیانت سے بچو، کیونکہ وہ بہت بری اندرونی صفت ہے، اور ظلم سے بچو، کیونکہ وہ قیامت کے دن اندھیرے ہیں، اور بخل سے بچو، کیونکہ بخل ہی نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، انہوں نے ایک دوسرے کا خون بہایا اور اپنے رشتے توڑ ڈالے۔“