حدیث نمبر: 18626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا فَيَّاضُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْكِلَابِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: «لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، جَعَلَ أَهْلَ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ عَلَى رُءُوسِهِمْ، وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ، وَإِنِّي لَمُطَيَّبٌ بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمْسَحْ عَلَى رَأْسِي وَلَمْ يَمَسَّنِي، وَلَا يَمْنَعُهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا أَنَّ أُمِّي خَلَّقَتْنِي بِالْخَلُوقِ فَلَمْ يَمَسَّنِي مِنْ أَجْلِ الْخَلُوقِ»
ترجمہ

سیدنا ولید بن عقبہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ ﷺ کے پاس لانے لگے، آپ ﷺ ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ مجھے بھی آپ ﷺ کے پاس لایا گیا جبکہ میں خلوق (ایک خوشبو) لگائے ہوئے تھا، تو آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ نہیں پھیرا اور نہ مجھے چھوا، اور آپ ﷺ کو اس سے روکنے والی صرف یہی بات تھی کہ میری ماں نے مجھے خلوق لگا رکھی تھی، تو آپ ﷺ نے صرف اسی خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18626
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 150، حدیث 406