حدیث نمبر: 18539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا ذَاتَ يَوْمٍ، وَقُدَّامَهُ قَوْمٌ يَصْنَعُونَ شَيْئًا يَكْرَهُونَهُ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَغَطًا فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَنْهَاهُمْ؟ فَقَالَ: «لَوْ نَهَيْتُهُمْ عَنِ الْحَجُونِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ»
ترجمہ

سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے تھے اور آپ ﷺ کے سامنے کچھ لوگ ایسی بات چیت اور شور و غل کر رہے تھے جو ناپسندیدہ تھی، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ انہیں منع کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں انہیں حجون پہاڑ پر جانے سے بھی منع کر دوں تو ان میں سے کوئی نہ کوئی بلا ضرورت وہاں جانے کی کوشش ضرور کرے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 123، حدیث 319