المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو إسحاق السبيعي، عن أبي جحيفة باب: ابواسحاق سبیعی کی سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 18539
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا ذَاتَ يَوْمٍ، وَقُدَّامَهُ قَوْمٌ يَصْنَعُونَ شَيْئًا يَكْرَهُونَهُ مِنْ كَلَامِهِمْ وَلَغَطًا فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا تَنْهَاهُمْ؟ فَقَالَ: «لَوْ نَهَيْتُهُمْ عَنِ الْحَجُونِ لَأَوْشَكَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَأْتِيَهُ وَلَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ»ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے تھے اور آپ ﷺ کے سامنے کچھ لوگ ایسی بات چیت اور شور و غل کر رہے تھے جو ناپسندیدہ تھی، تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ انہیں منع کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں انہیں حجون پہاڑ پر جانے سے بھی منع کر دوں تو ان میں سے کوئی نہ کوئی بلا ضرورت وہاں جانے کی کوشش ضرور کرے گا۔“