حدیث نمبر: 18529
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَضِرِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاذٍ النَّحْوِيُّ الْفَضْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ مِنْ أُدُمٍ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ بِالصَّلَاةِ صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ دَخَلَ فَوَضَّأَهُ، ثُمَّ أَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوئِهِ فِي تَوْرٍ فَازْدَحَمْنَا عَلَيْهِ، فَمِنْ مُصِيبٍ بِطُولِهِ، وَمِنْ مُنْتَضَحٍ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ مَا قُدِّرَ لَهُ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، تَمُرُّ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ، ثُمَّ أَقَامَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ فَأَمَّنَا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ»
ترجمہ

سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس پہنچا جبکہ آپ ﷺ ابطح میں چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے اور ظہر کی نماز کی اذان دی، پھر اندر گئے اور آپ ﷺ کو وضو کرایا، پھر آپ ﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی ایک برتن میں نکالا تو ہم اس پر ٹوٹ پڑے، کوئی اپنی لمبائی کے باعث پا لیتا، اور جسے جتنا مقدر تھا وہ اس پانی سے تر ہو جاتا۔ پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکال کر اپنے اور قبلے کے درمیان گاڑ دیا، جس کے سامنے سے عورت اور گدھا گزرتے تھے۔ پھر اقامت کہی گئی تو نبی کریم ﷺ سرخ جوڑے میں نکلے، گویا میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہا ہوں، اور آپ ﷺ نے ہمیں ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھائی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18529
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 120، حدیث 309