المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سفيان الثوري، عن عون بن أبي جحيفة باب: سفیان ثوری کی عون بن ابی جحیفہ سے روایات
حدیث نمبر: 18469
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْطَحَ فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَأَتَتَبَّعُ فَاهُ هَهُنَا وَهَهُنَا يَعْنِي يَمِينًا وَشِمَالًا، وَأَخْرَجَ فَضْلَ وَضُوئِهِ، فَبَيْنَ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ فَرَكَزَ عَنَزَةً فَخَرَجَ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعَ»ترجمہ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ابطح آیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے اور اذان دی، گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ ان کا منہ ادھر ادھر یعنی دائیں بائیں گھومتا تھا۔ پھر انہوں نے آپ ﷺ کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اسے پانے اور اس سے تر ہونے میں لگ گئے۔ پھر انہوں نے نیزہ گاڑ دیا اور نکل آئے۔ آپ ﷺ سرخ جوڑا پہنے ہوئے تھے، گویا میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے ظہر اور عصر دو دو رکعت پڑھائی یہاں تک کہ واپس تشریف لے گئے۔