حدیث نمبر: 18452
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قِيرَاطٍ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَقْدِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَتْ: كَانَ أَبِي إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ جَلَسَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ لَا يَتَكَلَّمُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَرُبَّمَا كَلَّمْتُهُ فِي الْحَاجَةِ فَلَا يُكَلِّمُنِي، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَكُلَّمَا قَرَأَ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ غُفِرَ لَهُ ذَنْبُ سَنَةٍ»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت واثلہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ میرے والد جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو قبلہ رخ بیٹھ جاتے اور جب تک سورج طلوع نہ ہوتا بات نہ کرتے۔ کبھی میں انہیں کسی ضرورت کے بارے میں کچھ کہتی تو وہ مجھ سے بات نہ کرتے۔ میں نے پوچھا: یہ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص فجر کی نماز پڑھے، پھر بات کرنے سے پہلے سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھے، تو جتنی بار وہ سورۃ اخلاص پڑھے گا اتنی بار اس کے ایک سال کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18452
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 96، حدیث 232