❮
❯
حدیث نمبر: 1845
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْعَى غَنَمًا فاسْتَعْلَى الْغَنَمَ، فَكَانَ فِي الْإِبِلِ وَهُوَ شَرِيكٌ لَهُ، فَأَكْرَيَا أُخْتَ خَدِيجَةَ، فَلَمَّا قَضَوُا السَّفَرَ بَقِيَ لَهُمْ عَلَيْهَا شَيْءٌ، فَجَعَلَ شَرِيكُهُ يَأْتِيهُمْ ويَتَقَاضَاهُمْ وَيَقُولُ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْطَلِقْ، فَيَقُولُ: «اذْهَبْ أَنْتَ فَإِنِّي أَسْتَحْيِي» ، فَقَالَتْ مَرَّةً وَأَتَاهُمْ: فَأَيْنَ مُحَمَّدٌ لَا يَجِيءُ مَعَكَ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ فَزَعَمَ أَنَّهُ يَسْتَحْيِي، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ حَيَاءً وَلَا أَعَفَّ وَلَاءً، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ أُخْتِهَا خَدِيجَةَ فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتِ: ائْتِ أَبِي فَاخْطِبْنِي إِلَيْهِ، فَقَالَ: «أَبُوكِ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ وَهُوَ لَا يَفْعَلُ» ، قَالَتْ: انْطَلِقْ فَالْقَهُ وَكَلِّمْهُ، ثُمَّ أَنَا أَكْفِيكَ وَائْتِ عِنْدَ سُكْرِهِ فَفَعَلَ، فَأَتَاهُ فَزَوَّجَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ، فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَحْسَنْتَ زَوَّجْتَ مُحَمَّدًا، قَالَ: أَوَ فَعَلْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ مُحَمَّدًا وَمَا فَعَلْتُ، قَالَتْ: فَلَا تُسَفِّهَنَّ رَأْيَكَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوِقَّتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ وَقَالَتْ: اشْتَرِ حُلَّةً فَاهْدِها لِي وكَبْشًا وَكَذَا وَكَذَا فَفَعَلَ
ترجمہ

ابوخالد والبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ، یا نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی نے، بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ بکریوں سے اونٹوں کی طرف منتقل ہو گئے اور اس کام میں ایک شخص آپ ﷺ کے شریک تھے، تو ان دونوں نے (اپنے اونٹ) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کو کرائے پر دیے، پھر جب وہ سفر سے فارغ ہوئے تو ان کے کچھ پیسے اس بہن کے ذمے باقی رہ گئے، تو ان کا ساتھی ان کے پاس آنے اور تقاضا کرنے لگا اور محمد ﷺ سے کہتا: چلو، تو آپ ﷺ فرماتے: ”تم خود جاؤ، مجھے شرم آتی ہے“، تو ایک بار جب وہ (ساتھی) ان کے پاس آیا تو وہ عورت کہنے لگی: محمد کہاں ہیں، وہ تمہارے ساتھ کیوں نہیں آتے؟ اس نے کہا: میں نے ان سے کہا تھا تو انہوں نے کہا کہ انہیں شرم آتی ہے، تو اس نے کہا: میں نے کبھی ان سے زیادہ باحیا اور پاکباز آدمی نہیں دیکھا، تو یہ بات ان کی بہن سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اتر گئی، تو انہوں نے آپ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا اور کہا: میرے والد کے پاس جاؤ اور ان سے میرا رشتہ مانگو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے والد بہت مالدار آدمی ہیں، وہ ایسا نہیں کریں گے“، انہوں نے کہا: جاؤ ان سے ملو اور بات کرو، پھر میں تمہارے لیے کافی ہوں گی، اور ان کے پاس اس وقت جانا جب وہ نشے میں ہوں، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا، تو ان کے پاس گئے تو انہوں نے آپ ﷺ کی شادی کر دی، پھر جب صبح ہوئی تو وہ اپنی مجلس میں بیٹھے، تو ان سے کہا گیا: تم نے بہت اچھا کیا، تم نے محمد کی شادی کر دی، انہوں نے کہا: کیا میں نے واقعی ایسا کیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو وہ اٹھے اور ان کے پاس گئے اور کہا: لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں نے محمد کی شادی کر دی حالانکہ میں نے ایسا نہیں کیا، انہوں نے کہا: اپنی رائے کو کمزور نہ سمجھیں، محمد ﷺ تو ایسے ایسے ہیں، تو وہ برابر انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہوگئے، پھر انہوں نے محمد ﷺ کی طرف چاندی یا سونے کی دو تھیلیاں بھیجیں اور کہا: ایک جوڑا خرید کر مجھے تحفے میں دیجیے اور ایک مینڈھا اور فلاں فلاں چیز، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 1845
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 209، حدیث 1858