❮
❯
حدیث نمبر: 18435
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ السَّمَيْدَعِ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَائِدِينَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِ مَدَّ يَدَهُ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَصَدْرَهُ، وَقَدْ بَايَعَ بِهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاثِلَةُ: كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ قَالَ: حَسَنٌ قَالَ: فَأَبْشِرْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ يَقُولُ: «أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ»
ترجمہ

یونس بن میسرہ بن حلبس رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم یزید بن اسود کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے، اتنے میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس آئے، جب انہوں نے اسے دیکھا تو اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کے چہرے اور سینے پر پھیرا، اور یہ وہی ہاتھ تھا جس سے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اپنے رب کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے؟ اس نے کہا: اچھا گمان ہے۔ انہوں نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اگر اچھا گمان ہو تو اچھا، اور اگر برا گمان ہو تو برا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18435
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 89، حدیث 215