حدیث نمبر: 18418
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عبدونُ بْنُ خَالِدٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، ووَاثِلَةِ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالُوا: كُنَّا فِي مَجْلِسِ أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْقَدَرَ فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا فَعَبَسَ وَانْتَهَرَ وقَطَّبَ ثُمَّ قَالَ: «مَهْ، اتَّقُوا اللهَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَادِيَانِ عَمِيقَانِ قَعْرَانِ مُظْلِمَانِ لَا يَهْجُو إِلَيْكُمْ وَهَجُ النَّارِ» ثُمَّ أَمَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَقُومُوا، ثُمَّ قَامَ وَبَسَطَ يَمِينَهُ وَبَسَطَ أُصْبُعَهُ الشِّمَالَ، ثُمَّ قَالَ: «بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِأَسْمَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ، وَأُمَّهَاتِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ، فَرَغَ رَبُّكُمْ أَعْذَرْتُ أَنْذَرْتُ، اللهُمَّ إِنِّي قَدْ أَبَلَغْتُ»
ترجمہ

…اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ (وغیرہ) کہتے ہیں: ہم یہود کی ایک مجلس میں تھے اور تقدیر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں ہمارے پاس تشریف لائے، آپ ﷺ کا چہرہ غصے سے متغیر تھا، آپ ﷺ نے ڈانٹا اور ناراضگی کا اظہار کیا، پھر فرمایا: ”خبردار! اے امتِ محمد! اللہ سے ڈرو، دو گہری، تہہ دار اور تاریک وادیاں ہیں، آگ کی تپش تم تک نہ پہنچے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہودیوں کو حکم دیا کہ وہ کھڑے ہو جائیں، پھر خود کھڑے ہوئے، اپنا دایاں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کی انگلی پھیلائی، پھر فرمایا: ”بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ اللہ رحمن رحیم کی طرف سے ایک تحریر ہے، جنتیوں کے ناموں، ان کے باپ داداؤں کے ناموں، ان کی ماؤں کے ناموں اور ان کے قبیلوں کے ناموں کے ساتھ۔ تمہارا رب فارغ ہو چکا، تمہارا رب فارغ ہو چکا، تمہارا رب فارغ ہو چکا، میں نے عذر پیش کر دیا، میں نے ڈرا دیا۔ اے اللہ! میں نے پہنچا دیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18418
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 82، حدیث 198