المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس اليماني، عن واثلة باب: طاؤس یمانی کی سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكِنْدِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، نَبِّئْنِي قَالَ: «إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَسَلْ» قَالَ: قُلْتُ: بَلْ نَبِّئْنِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي. قَالَ: «جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْيَقِينِ وَالشَّكِّ» قَالَ: قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «فَإِنَّ الْيَقِينَ مَا اسْتَقَرَّ فِي الصَّدْرِ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمَفْتُونُ، دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةُ، وَالشَّكَّ رِيبَةٌ، وَإِذَا شَكَكْتَ فَدَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ» قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بِأَبِي وَأُمِّي فَمَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: «أَنْ تُعِينَ قَوْمَكَ عَلَى الظُّلْمِ، وَالْوَرِعُ الَّذِي يَقِفُ عَلَى الشُّبُهَاتِ، وَالْحَرِيصُ عَلَى الدُّنْيَا الَّذِي يَطْلُبُهَا مِنْ غَيْرِ حَلٍّ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ»طاؤس یمانی رحمہ اللہ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ بات بتا دوں جس کے متعلق تم پوچھنے آئے ہو، اور اگر چاہو تو خود پوچھ لو۔“ میں نے عرض کیا: بلکہ آپ ہی مجھے بتا دیجیے، یا رسول اللہ، کیونکہ یہ میرے دل کے لیے زیادہ خوشگوار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یقین اور شک کے بارے میں پوچھنے آئے ہو۔“ میں نے عرض کیا: یہی بات ہے، یا رسول اللہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقین وہ چیز ہے جو دل میں جم جائے اور جس کی طرف دل مطمئن ہو جائے، خواہ کوئی فتویٰ دینے والا تمہیں فتویٰ ہی کیوں نہ دے دے۔ جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے، کیونکہ بھلائی اطمینان میں ہے اور شک بے چینی میں ہے، اور جب تمہیں شک ہو تو جو چیز شک میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، میرے ماں باپ آپ پر قربان، عصبیت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرو، اور پرہیزگار وہ ہے جو شبہات کے وقت رک جائے، اور دنیا کا حریص وہ ہے جو اسے ناجائز طریقے سے تلاش کرے، اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔“