المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند واثلة مكحول الشامي، عن واثلة باب: سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کی مرویات — مکحول شامی کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 18364
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا بَكَّارُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: سَأَلَ سَائِلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ يُؤَذَّنُ فِيهَا بِالصَّلَاةِ فِي نِصْفِ النَّهَارِ وَقَدْ نَهَيْتَ عَنْ سَائِرِ الْأَيَّامِ؟، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ يُسَعِّرُ جَهَنَّمَ كُلَّ يَوْمٍ فِي نِصْفِ النَّهَارِ، وَيُخْبِثُهَا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ»ترجمہ
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک سائل نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: جمعہ کے دن کیا بات ہے کہ اس میں دوپہر کے وقت نماز کی اذان دی جاتی ہے، حالانکہ آپ ﷺ نے باقی دنوں میں اس سے منع فرمایا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر دن دوپہر کے وقت جہنم کو دہکاتا ہے، لیکن جمعہ کے دن اسے اور بھڑکا دیتا ہے۔“