المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند واثلة مكحول الشامي، عن واثلة باب: سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کی مرویات — مکحول شامی کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الشَّامِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا، سَمِعْتُهُ مِنْ، رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سَمِعْتُ مُعَاذًا وَحُذَيْفَةَ يَسْتَشِيرَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ فَأَوْمَى إِلَيْهِمَا بِالشَّامِ، ثُمَّ اسْتَشَارَاهُ فَأَوْمَى إِلَيْهِمَا بِالشَّامِ، ثُمَّ اسْتَشَارَاهُ فَأَوْمَى إِلَيْهِمَا بِالشَّامِ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ، فَإِنَّهَا صَفْوَةُ بِلَادِ اللهِ يَسْكُنُهَا خِيرَتُهُ مِنْ عِبَادِهِ، وَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ وَلْيَسْقِ بِغُدُرِهِ، فَإِنَّ اللهَ قَدْ تَكَفَّلَ لِي بِالشَّامِ وَأَهْلِهِ»مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ سیدنا معاذ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما رہائش کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے مشورہ کر رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان کی طرف شام کا اشارہ کیا، پھر انہوں نے دوبارہ مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے پھر شام کی طرف اشارہ کیا، پھر انہوں نے پھر مشورہ کیا تو آپ ﷺ نے پھر شام کی طرف اشارہ کیا، اور تیسری بار فرمایا: ”تم شام کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ اللہ کی زمینوں میں سب سے بہتر ہے، اس کے بندوں میں سے چنیدہ لوگ اس میں رہتے ہیں، اور جو اس سے انکار کرے وہ اپنے یمن سے جا ملے اور اپنے تالابوں سے پانی پیئے، کیونکہ اللہ نے میرے لیے شام اور اس کے باشندوں کا ذمہ لیا ہے۔“