حدیث نمبر: 18228
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ: ذَكَرَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي «رَفْعِ يَدَيْهِ لِلصَّلَاةِ» قَالَ حُصَيْنٌ: فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَدْرِي لَعَلَّ وَائِلًا لَمْ يَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَكَيْفَ حَفِظَهُ؟ وَلَمْ يَحْفَظْهُ عَبْدُ اللهِ وَأَصْحَابُهُ هُوَ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ عَبْدُ اللهِ فَإِنَّمَا كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ افْتِتَاحًا
ترجمہ

عمرو بن مرہ رحمہ اللہ نے علقمہ بن وائل کے واسطے سے، وہ اپنے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے، نبی کریم ﷺ کے نماز کے لیے ہاتھ اٹھانے کے بارے میں ذکر کیا۔ حصین کہتے ہیں: اس پر ابراہیم (نخعی) نے کہا: مجھے نہیں معلوم، شاید وائل نے نبی کریم ﷺ کو اس دن کے سوا کبھی نہیں دیکھا ہو، تو انہیں یہ بات کیسے یاد رہی جبکہ عبداللہ (بن مسعود) اور ان کے ساتھیوں کو یہ یاد نہیں؟ کیا وہ رسول اللہ ﷺ کو عبداللہ سے زیادہ جانتے تھے؟ (نبی کریم ﷺ تو) صرف نماز شروع کرتے وقت ہی ہاتھ اٹھاتے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الواو / حدیث: 18228
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 12، حدیث 8