المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
حمزة أبو عمر العائذي، عن علقمة بن وائل باب: حمزہ ابوعمر عائذی کی علقمہ بن وائل سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ حَمْزَةَ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالرَّجُلِ فِي نِسْعَةٍ يُقَادُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: «أَتَعْفُو عَنْهُ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ» قَالَ: لَا قَالَ: فَتَقْتُلُهُ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ فَتَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ قَالَ: تَعَالَ، أَتَعْفُو؟ مِثْلَ قَوْلِهِ الْأَوَّلِ فَقَالَ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ مِثْلَ قَوْلِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الرَّابِعَةِ: «أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمَ صَاحِبِكَ» فَتَرَكَهُ قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ "علقمہ بن وائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد (وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا جب ایک آدمی کو رسی میں باندھ کر لایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تم اسے معاف کرتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو دیت لے لو؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ۔“ وہ اس کے پاس سے پلٹا، آپ ﷺ نے (پھر) فرمایا: ”آؤ، کیا معاف کرتے ہو؟“ - پہلے کی طرح - مقتول کا ولی تین مرتبہ اسی طرح انکار کرتا رہا، تو رسول اللہ ﷺ نے چوتھی مرتبہ فرمایا: ”جان لو کہ اگر تم نے اسے معاف کر دیا تو وہ تمہارے اور اپنے گناہ کے ساتھ لوٹے گا۔“ چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ فرماتے ہیں: میں نے اسے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔