المعجم الكبير للطبراني
باب الواو— حرف واؤ سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جامع بن مطر، عن علقمة باب: جامع بن مطر کی علقمہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو خَلِيفَةَ قَالَا: ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ، قَالَا: نا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ قَالَ: ثنا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقَهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفُرَانِهِ، فَوَقَعَ الْمِنْقَارُ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ، فَقَتَلَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْفُ عَنْهُ» فَأَبَى ثُمَّ قَامَ فَذَكَرَ مِثْلَ الْكَلَامِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْفُ عَنْهُ» ، فَأَبَى فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبْ بِهِ، فَإِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ» فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَاهُ أَلَا تَسْمَعَ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ» قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُو عَنْهُ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا "…اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی ایک کنواں کھود رہے تھے کہ کدال گر گئی اور اس کے ساتھی کے سر پر لگی، جس سے وہ مر گیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس (بھائی) سے فرمایا: ”اسے معاف کر دو۔“ اس نے انکار کیا، پھر وہ (دوبارہ) کھڑا ہوا اور اس نے وہی بات دہرائی، تو نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا: ”اسے معاف کر دو۔“ اس نے پھر انکار کیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اسے لے جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے۔“ چنانچہ وہ اسے لے کر نکلا یہاں تک کہ آگے بڑھ گیا، تو کسی نے اسے پکار کر کہا: کیا تم نہیں سنتے کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرما رہے ہیں؟ تو وہ واپس آیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے۔“ اس نے کہا: ٹھیک ہے، میں اسے معاف کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا چلا گیا یہاں تک کہ ہم سے اوجھل ہو گیا۔