المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قبيصة بن ذؤيب , عن المغيرة باب: قبیصہ بن ذؤیب کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ القَرَاطِيسِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالُوا: أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللهِ , فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْءٌ , وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ , فَسَأَلَ النَّاسَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «حَضَرَتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهَا السُّدُسَ» , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ , فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ , ثُمّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا , فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ مِنْ شَيْءٍ , وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ , وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا , وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ , فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا , وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ ابْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ…قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس (نانی/دادی) سے فرمایا: ”تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ نہیں، اور مجھے رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی تمہارے لیے کچھ معلوم نہیں، لہٰذا واپس جاؤ یہاں تک کہ میں لوگوں سے پوچھ لوں۔“ چنانچہ انہوں نے لوگوں سے پوچھا تو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ ﷺ نے اسے چھٹا حصہ عطا فرمایا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟“ تو محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور مغیرہ کی بات کی تصدیق کی، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے (چھٹا حصہ) دلوا دیا۔ پھر دوسری نانی/دادی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی میراث مانگنے آئی، تو انہوں نے فرمایا: ”تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حصہ نہیں، اور جو فیصلہ ہوا تھا وہ صرف تمہارے سوا (دوسری) کے حق میں تھا، اور میں مقررہ حصوں میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا، لیکن وہی چھٹا حصہ ہے، اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو وہ تم دونوں کے درمیان (تقسیم) ہوگا، اور تم میں سے جو اکیلی رہ جائے وہ اسی کا ہوگا۔“
(یہ الفاظ ابن عبدالحکم کی روایت کے ہیں۔)