حدیث نمبر: 18191
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَطْلُبُ مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنِ ابْنَتِهَا - لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا هِيَ - فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَجِدُ لَكِ فِي كِتَابِ اللهِ شَيْئًا , وَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَكِ بِشَيْءٍ , وَسَأَسْأَلُ النَّاسَ الْعَشِيَّةَ , فَلَمَّا صَلَّى الظُّهْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: إِنَّ الْجَدَّةَ أَتَتْنِي تَسْأَلُنِي مِيرَاثَهَا مِنِ ابْنِ ابْنِهَا أَوِ ابْنِ ابْنَتِهَا , وَإِنِّي لَمْ أَجِدْ لَهَا فِي الْكِتَابِ شَيْئًا , وَلَمْ أَسْمَعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى لَهَا بِشَيْءٍ , فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا شَيْئًا؟ فَقَامَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» فَقَالَ: هَلْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعَكَ أَحَدٌ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ» فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ , فَلَمَّا كَانَتْ خِلَافَةُ عُمَرَ جَاءَتْهُ الْجَدَّةُ الَّتِي تُخَالِفُهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّمَا كَانَ الْقَضَاءُ فِي غَيْرِكِ , وَلَكِنْ إِذَا اجْتَمَعْتُمَا فَالسُّدُسُ بَيْنَكُمَا , وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا
ترجمہ

…(ایک نانی/دادی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے میراث میں اپنا حصہ مانگا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) ”اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے کوئی حصہ نہیں ملتا، اور میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی تمہارے لیے کسی چیز کا فیصلہ کرتے نہیں سنا، تو کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کچھ سنا ہے؟“ اس پر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے لیے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ کرتے دیکھا ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”کیا تمہارے ساتھ کسی اور نے بھی یہ سنا ہے؟“ تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے لیے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ کرتے دیکھا ہے۔“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے چھٹا حصہ دے دیا۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو ان کے پاس وہ دوسری نانی/دادی آئی جو اس کے مقابل تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”فیصلہ تو صرف تمہارے سوا (دوسری) کے حق میں ہوا تھا، لیکن اگر تم دونوں اکٹھی ہو جاؤ تو چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان (برابر تقسیم) ہوگا، اور تم میں سے جو اکیلی رہ جائے وہ (پورا) اسی کا ہوگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الميم / حدیث: 18191
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 437، حدیث 1067