المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بكر بن عبد الله المزني , عن المغيرة باب: بکر بن عبداللہ مزنی کی سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، ح قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا فَقَالَ: «اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا , فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا» فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَِا ذَلِكَ , فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِي فِيَ خِدْرِهَا فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ , وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ , كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ , قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا "
وَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَابکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے ایک عورت کا ذکر کیا جسے میں نکاح کا پیغام دینا چاہتا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اسے دیکھ لو، کیونکہ اس سے تم دونوں کے درمیان محبت قائم رہنے کا زیادہ امکان ہے۔“ چنانچہ میں انصار کی ایک عورت کے پاس آیا اور اس کے والدین سے اس کا نکاح کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم ﷺ کا فرمان بتایا، تو گویا انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ وہ عورت اپنے پردے میں یہ سن رہی تھی، تو اس نے کہا: ”اگر رسول اللہ ﷺ نے تمہیں دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لو، ورنہ میں تمہیں قسم دیتی ہوں“ - گویا اس نے اس بات کو بہت بڑا (سنگین) سمجھا۔ فرماتے ہیں: میں نے اسے دیکھا اور اس سے نکاح کر لیا۔ اور راوی نے اس (عورت) کی (اپنے شوہر سے) موافقت (اور ہم آہنگی) کا بھی ذکر کیا۔